تلمبہ میں یہ مٹی کے ٹیلے

سکندر اعظم کو یہاں سے تیر کا وہ زخم لیکر واپس لوٹنا پڑا جو اسکی موت کا سبب بن گیا۔

وہ عظیم شہر جس پر سکندر سے لے کر تیمور تک1453820494-tibba2 کے فاتحین کی نظریں مرکوز رہیں آج مٹی کے ٹیلوں میں تبدیل ہوچکا ہے۔

کھدائی کے نتیجے میں تلمبہ کی تاریخ کو پانچ ادوار میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلا دور ملوئی قبیلہ سے تعلق رکھتا ہے، دوسرا یونانی، تیسرا سانسی، چوتھا بدھ اور پانچواں دور مسلمان بادشاہوں کا تھا۔

تین سو قبل مسیح میں ہندوستان فتح کرنے کی خواہش لیکر آنیوالے سکندر اعظم نے ملتان پر حملہ کرنے کیلئے دریائے راوی کو یہی سے پار کیا تھا۔

ناقابل شکست چلے آرہی سکندر اعظم کی فوج کو تلمبہ کے ملوئی قبیلے کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور یوں سکندر کی ہندوستان فتح کرنے کی خواہش پوری نہ ہو سکی اور اسے یہاں سے تیر کا وہ زخم لیکر واپس جانا پڑا جو اسکی موت کا سبب بن گیا۔

سکندر اعظم کے بعد بھی مختلف حکمرانوں اور بادشاہوں کے ادوار میں یہ علاقہ دفاعی نقطہ نظر سے خاص اہمیت کا حامل رہا۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s